دل جوئی
معنی
١ - تسلی اور تسکین دینے کا عمل، دل داری، تالیف قلوب۔ "مولانا (صلاح الدین احمد) میرے یہاں آنے لگے مریضہ کی حالت تفصیل سے پوچھتے تھے اور میری دل جوئی میں کوئی کمی اٹھانہ رکھتے تھے۔" ( ١٩٦٦ء، آنکھیں ترستیاں ہیں، ٣٨ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'جتن' مصدر سے فعل امر 'جو' بطور اسم فاعل لگا کر آخر پر 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشنِ عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تسلی اور تسکین دینے کا عمل، دل داری، تالیف قلوب۔ "مولانا (صلاح الدین احمد) میرے یہاں آنے لگے مریضہ کی حالت تفصیل سے پوچھتے تھے اور میری دل جوئی میں کوئی کمی اٹھانہ رکھتے تھے۔" ( ١٩٦٦ء، آنکھیں ترستیاں ہیں، ٣٨ )